BackBack

Nawadir-ul-Alfaaz

Khan Arzoo Sirajuddin Ali

Rs. 510 – Rs. 689

خان آرزو، محمد شاہ کے عہد میں فارسی کے ممتاز ترین شاعر، محقق، تذکرہ نگار اور اردو و فارسی و اردو کے زبان شناس تھے۔ فارسی زبان کے ماہر ہونے کی وجہ سے لغت نگاری میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ زیر نظر کتاب "نوادر الالفاظ" میر عبد الواسع ہانسوی کی... Read More

PaperbackPaperback
HardboundHardbound
Rs. 567 Rs. 510
POD Sample
"This book is print-on-demand, so please expect delivery within 8 to 10 working days."
x
dummyPodimage1
dummyPodimage2
dummyPodimage3
dummyPodimage4
dummyPodimage5
dummyPodimage6
dummyPodimage7
dummyPodimage8
dummyPodimage9
dummyPodimage10
Reviews

Customer Reviews

Be the first to write a review
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
Description
خان آرزو، محمد شاہ کے عہد میں فارسی کے ممتاز ترین شاعر، محقق، تذکرہ نگار اور اردو و فارسی و اردو کے زبان شناس تھے۔ فارسی زبان کے ماہر ہونے کی وجہ سے لغت نگاری میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ زیر نظر کتاب "نوادر الالفاظ" میر عبد الواسع ہانسوی کی لکھی ہوئی لغت "غرائب اللغات" کا اضافہ ہے۔ ہانسوی کی غرائب اللغات کو اردو کی پہلی لغت کہا جاتا ہے اس لغت میں اردو الفاظ، محاورات اور مصطلحات کی تشریح فارسی زبان میں کی گئی ہے۔ چونکہ خان آرزو اردو کے علاوہ دکنی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے، انھیں جب پتا چلا کہ الفاظ کے معنی بیان کرنے میں ہانسوی سے کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں تو انھوں نے ان کی کتاب پر نظر ثانی کی اور غلطیاں درست کرکے نیاایڈیش تیار کیا جس کا نام "نوادر الالفاظ " رکھا ۔ اس کتاب میں انھوں نے لسانی شعور کو برتتے ہوئے سنسکرت، گوالیاری، راجستھانی، کشمیری، ہندی اور اردو زبان کا استعمال بڑی چابکدستی سے کیا ہے۔
Additional Information
Book Type

Paperback, Hardbound

Publisher Anjuman Taraqqi Urdu
Language Urdu
ISBN -
Pages 500
Publishing Year -

Nawadir-ul-Alfaaz

خان آرزو، محمد شاہ کے عہد میں فارسی کے ممتاز ترین شاعر، محقق، تذکرہ نگار اور اردو و فارسی و اردو کے زبان شناس تھے۔ فارسی زبان کے ماہر ہونے کی وجہ سے لغت نگاری میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ زیر نظر کتاب "نوادر الالفاظ" میر عبد الواسع ہانسوی کی لکھی ہوئی لغت "غرائب اللغات" کا اضافہ ہے۔ ہانسوی کی غرائب اللغات کو اردو کی پہلی لغت کہا جاتا ہے اس لغت میں اردو الفاظ، محاورات اور مصطلحات کی تشریح فارسی زبان میں کی گئی ہے۔ چونکہ خان آرزو اردو کے علاوہ دکنی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے، انھیں جب پتا چلا کہ الفاظ کے معنی بیان کرنے میں ہانسوی سے کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں تو انھوں نے ان کی کتاب پر نظر ثانی کی اور غلطیاں درست کرکے نیاایڈیش تیار کیا جس کا نام "نوادر الالفاظ " رکھا ۔ اس کتاب میں انھوں نے لسانی شعور کو برتتے ہوئے سنسکرت، گوالیاری، راجستھانی، کشمیری، ہندی اور اردو زبان کا استعمال بڑی چابکدستی سے کیا ہے۔